Saturday, December 10, 2016

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------------
13



حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے تعظیم اور احترام کے جزبے کے ساتھ فرمایا۔ اللہ تعالی کا کونسا نام اسمِ اعظم نہیں ہے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------------
14


ایک شخص بایزید ؒ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے بایزید مجھکو اللہ تعالی نے ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جس تک دنیا کے کسی آدمی کی رسائی نہیں آپؒ نے پوچھا آخر وہ کیا اور کیسا مقام ہے۔ تو اُس شخص نے کہا عرش سے فرش تک جو کچھ بھی ہئ سب میرے لئے مسخر ہے ۔ اس پر بایزید ؒ نے فرمایا یہ تو سب سے کم تر درجہ ہے۔ جس سے اہلَ معرفت سرفراز ہوتے ہیں

حضرت بایزید بسطامی ؒ

----------------------------------
15



حضرت بایزید ؒ نے خود فرمایا ہے کہ محبت میں سالک کو چاہئے کہ وہ اپنے (عمل و نفاق) کے بہت کچھ کو کم سمجھے اور محبوب کی جانب سے تھوڑی سی عطا کو ذیادہ تصور کرے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-----------------------------
16



حضرت بایزید بسطامی ؒ فرماتے ہیں محبت یہ ہے کہ بندہ اپنی بہت ذیادہ عبادت کو بلکل معمولی سمجھے اور دوست کی تھوڑی سی عطا کو بہت ذیادہ جانے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------------
17



ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص حضرت بایزید ؒ کی ذیارت کو آیا اور جب واپس جانے لگا تو کہنے لگا کہ میں نے آپؒ  کی کوئی کرامت نہیں دیکھی۔حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ تم نے اپنے قیام کے دوران میرا کوئی عمل خلافِ سنت دیکھا ؟ تو اُس شخص نے نفی میں جواب دیا ۔
پھر آپؒ نے فرمایا  اس سے بڑھ کر اور کیا کرامت چاہتے ہو ؟

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-----------------------------
18



حضرت بایزید ؒ فرماتے ہیں کہ ساری عمر میری یہی تمنا رہی کہ ایک نماز تو ایسی ادا کروں کہ جو خداوند تعالی کے شایانِ شان ہو۔لیکن افسوس میں ایسا نہ کر سکا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------------
19



حضرت بایزید بسطامیؒ سے روایت ہے آپؒ نے فرمایا کہ درویش کا بغیر مراقبہ کے چلنا نشانِ غفلت ہے ۔یعنی چلتے وقت بھی قدموں کے ساتھ اللہ ھو کہے، ایک قدم اُٹھائے تو (اللہ) اور دوسرے کو اُٹھائے تو ھو کہے۔آپؒ فرماتے ہیں جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ دو قدموں میں ہی حاصل ہوتا ہے، کیونکہ ایک قدم اپنے حصہ کی تلاش کے لئے رکھا جاتا ہے اور دوسرا اللہ تعالی کے حکم کے مطابق رکھا جاتا ہے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------------
20



حضرت بایزید بسطامیؒ نے فرمایا اگر میں اعلیٰ مجاہدات کا ذکر کروں تو تمہارے فہم سے بالاتر  ہے لیکن میرا معمولی مجاہدہ  یہ ہے کہ ایک دن میں نے اپنے نفس کو عبادت کے لئے آمادہ کرنا چاہا تو وہ منحرف ہوگیا لیکن میں نے بھی اُسے سزا کےطور پر پورے ایک سال تک پانی سے محروم رکھا اور کہا تم عبادت کے لئے تیار ہوجاو ورنہ اسی طرح پیاس سے تڑپاتا رہوں گا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------
21



منقول ہے کہ حضرت بایزیدؒ  ریاضت میں اس درجہ مستغرق رہتے تھے کہ ایک ارادت مند جو تیس سال سے  آپؒ کا خادم بنا ہوا تھا وہ جب بھی سامنے آتا تو آپؒ پوچھتے کہ تیرا نام کیا ہے ؟

ایک مرتبہ اُس نے عرض کی کہ آپؒ میرے ساتھ مذاق کرتے ہیں ؟ کہ جب بھی میں سامنے آتا ہوں تو آپؒ نام پوچھتے ہیں۔ 
آپؒ نے فرمایا میں مذاق نہیں کرتا بلکہ میرے قلب و روح میں اس طرح اللہ تعالی کا نام جاری و ساری ہے کہ اس کے نام کے سوا مجھے کسی کا نام یاد نہیں رہتا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------------------
22



حضرت بایزید ؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں سردیوں کی رات میں گدڑی اوڑھے ہوئے ایک جنگل میں سویا ہوا تھا۔ کہ مجھے غسل کی حاجت پیش آگئی۔ لیکن شدت سردی کی وجہ سے میرے نفس میں کاہلی پیدا ہوگئی۔مگر میں نے بھی گدڑی اوڑھے ہوئے یک بستہ پانی سے غسل کر کے صبح تک وہی بھیگی ہوئی گدڑی اِس نیت سے اوڑھے رکھی کی کاہلی کے جرم میں نفس کو اور بھی ذیادہ سردی کا سامنا کرنا پڑے۔اور اُس دن سے یہ معمول بنا لیا کہ دن میں ستر مرتبہ غسل کرتا ہوں اور ہر مرتبہ بے ہوش ہوجاتا ہوں۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------------
23



حضرت بایزید ؒ سے حضرت احمدؒ نے سوال کیا کہ میں نے آپؒ کے مکان کے سامنے شیطان کو پھانسی پر لٹکے دیکھا ہے وہ کیا چیز ہے ؟
حضرت بایزیدؒ نے فرمایا میں نے اُس سے وعدہ لیا تھا کہ کبھی بسطام میں داخل نہ ہوگا لیکن وہ وعدہ خلافی کرتے ہوئے ایک شخس کو فریب دینے کے لئے بسطام میں آگیا۔ اور اسی کی سزا میں میں نے اسے پھانسی پر لٹکا دیا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ

-------------------------
24



حضرت بایزید ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شب فلک اول کے ملائکہ جمع ہو کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپؒ کے ہمراہ عبادت کرنا چاہتے ہیں، میں نے اُن سے کہا کہ میری زبان میں طاقت نہیں جس سے میں ذکرِ الہی کر سکوں ۔ لیکن اس کے باوجود رفتہ رفتہ ساتوں آسمان کے ملائکہ میرے پاس جمع ہوگئے۔اور سب سے وہی خواہش ظاہر کی جو فلک اول کے فرشتوں نے کی تھی۔اور میں نے سب کو پہلے ہی جیسا جواب دیا۔ اور جب پوچھا کہ ذکرِ الہی کی طاقت آپ میں کب تک پیدا ہو گی تو میں نے کہا کہ قیامت میں جب سزا و جزا ختم ہو جائیں گے اور طواف عرش کرتا ہوا اللہ اللہ کہہ رہا ہوں گا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------
25




ایک شب حضرت بایزیدؒ کو عبادت میں لذت محسوس نہ ہوئی تو خادم سے فرمایا  دیکھو گھر میں کیا چیز موجود ہے۔ چنانچہ انگور کا ایک خوشہ نکلا تو آپؒ نے فرمایا یہ کسی کو دے دو۔ اس کے بعد آپؒ کے اوپر انوار کی بارش ہونے لگی اور ذکر و شغل میں لذت محسوس ہونے لگی

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------------

26


ایک مرتبہ حضرت بایزید ؒ کہیں تشریف لے جا رہے تھے  کہ ایک ارادت مند آپؒ کے تقشِ پا پر قدم رکھ کر چلتے ہوئے کہنے لگا مرشد کے نقشِ قدم پر چلنا اسکو کہتے ہیں۔ پھر اِسی مرید نے استدعا کی کہ مجھے اپنی پوستین کا ایک ٹکڑا عنایت فرما دیں۔ تاکہ مجھے بھی برکت حاصل ہو سکے۔ آپؒ نے فرمایا اس وقت تک میری کھال بھی سودمند نہیں جب تک مجھ جیسا عمل نہ ہو۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-------------------------
27


حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ مغرور اِس کو کہتے ہیں جو دوسروں کو کم تر تصورکرے اور مغرور کو کبھی معرفت حاصل نہیں ہوتی

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------

28


حضرت بایزید ؒ فرماتے  ہیں کہ میں نے خدا سے سوائے خدا کہ کچھ طلب نہیں کیا اور  فرمایا کہ مخلوق نے مجموعی طور پر جتنا خدا کو یاد کیا ہے میں نے تنہا یاد کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا نے مجھکو  یاد فرمایا اور اپنی معرفت سے مجھکو  حیات نو عطا کردی۔۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-------------------------------------------------

29


حضرت بایزیدؒ نے فرمایا کہ  جب مجھے آسمان کی سیر کروائی گئی اور عالمِ ملکوت  یرے مشاہدے میں آگیا تو مجھے وہاں سے رضا و محبت حاصل ہوگئی،

حضرت بایزید بسطامی ؒ

---------------------------

30



حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ مجھے یہ مرتبہ پہلے حاصل ہوا  کہ جس عضو کو رجوع الا اللہ پایا تو اس سے کنارہ کش ہر کر دوسرے عضو سے کام نکالا،


حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------
31



فرمایا کہ خدا شناسی کے بعد  میں نے خدا کو اپنے کئے کافی سمجھ لیا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------
1


حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ کچھ عرصہ سے نماز میں مجھے خیال آتا ہے کہ میرا قلب مشرک ہے اور اس کو زنار کی ضرورت ہے۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------
2



عورتیں مجھ سے اس لئے افضل ہیں کہ وہ ماہواری کے بعد غسل کر کے پاک و صاف ہو جاتی ہیں لیکن میری تمام عمر غسل کرتے بہت گئی مگر پاکی حاصل نہ ہو سکی۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-----------------------------














Tuesday, October 18, 2016

19-10-16


حضرت بایزید بسطامیؒ
حضرت عبد اللطیف خان نقشبندی
--------------------------------
19



عشاق اور اہل عقیدت کے دلوں میں جنت کا کبھی خیال بھی نہیں گزرتا کیونکہ وہ اپنے محبوب کے پردہ محبت میں محجوب ہیں


حضرت بایزید بسطامیؒ

---------------
20



میں نے توبہ کی اور توبہ کرنے سے بھی توبہ کی کیونکہ توبہ کرنے والا اپنا وجود مان کر توبہ کرتا ہے اور اس مقام پر اپنے وجود کا ثابت کرنا بھی شرک ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ


-----------------------
21



حق تعالی نے اپنی مخلوق کو اپنے عشاق پر چھوڑ رکھا ہے تاکہ مخلوق اُنہیں تنگ کرے۔اور اللہ تعالی یہ نہیں چاہتا کہ مخلوق اس کے ولی کو پہچان سکے


حضرت بایزید بسطامیؒ


--------------------------------
22



جو واصل الی اللہ ہوجاتا ہے مخلوق اس کی فرمانبردار ہوجاتی ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ


-----------------------------------
23



جو خدا سے محبت کرتا ہے تو وہ خدائے یکتا کی طرح یکتا ہوجاتا ہے

حضرت بایزید بسطامیؒ
----------------
24



جو شخص اتباع سنت  کے بغیر  خود کو صاحب طریقت کہتا ہے وہ کاذب ہے

حضرت بایزید بسطامیؒ
----------------------------------
25



سچا ولی وہ ہوتا ہے جو نفس کا بندہ نہ ہوا اور صبر و تحمل کے ساتھ خداوند تعالیٰ کے ساتھ اوامر و نواہی کی تعمیل کرے

حضرت بایزید بسطامیؒ

--------------------------
26



حرم وہ جگہ نہی جہاں مجاہدہ ہوتا ہے بلکہ حرم وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالی کا مشاہدہ اور اُسکی تعظیم ہوتی ہے

حضرت بایزید بسطامیؒ

------------------------
27



وہ بندہ جس کے لئے جہان کی ہر چیز اللہ تعالی کی قربت و محبت اور انس و خلوت کا باعث نہیں بنتی تو وہ اللہ تعالی کی دوستی کے ذروں سے بھی  کہیں دور ہوتا ہے۔

حضرت بایزید بسطامیؒ

----------------------
28



جب بندہ مکاشف ہوجاتا ہے تو تمام چیزیں اس کے لئے حرم مکہ و کعبہ بن جاتی ہیں

حضرت بایزید بسطامیؒ

---------------------------
29



بندہ جب حجاب میں ہوتا ہے یعنی جب اسکی دل کی آنکھ بند ہوتی ہے تو اس وقت اس کے لئے حرم مکہ و کعبہ میں سب سے ذیادہ اندھیرا ہوتا ہے

حضرت بایزید بسطامیؒ

----------------------------------
30



حضرت بایزیدؒ کو اُنکی وفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا آپ کا کیا حال ہے ؟
بایزیدؒ نے فرمایا مجھے اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا گیا۔ اللہ تعالی نے پوچھا '' اے پیرچہ  آوری''  (اے بوڑھے کیا لایا ہے؟)
میں نے کہا فقیر جب بادشاہ کے دربار میں ائے تو اسے یہ نہیں کہا کرتے کہ تو کیا لایا بلکہ کہتے ہیں کہ تو کیا مانگتا ہے۔

حضرت بایزید بسطامیؒ

-------------------------------
31



اللہ تعالی کو خواہ کسی نام سے پکارا جائے مگر پکارنے کا انداز درست ہونا چاہئے

حضرت بایزید بسطامیؒ

-------
1



اگر گریہ کی کیفیت ہوجائے تو اجابت فوراَ ہوتی ہے

حضرت بایزید بسطامیؒ

------------------------------
2



اگر سالک کے دل میں عجز و نیاز ہو تو سمجھ لو اُس نے اپنا پیغام اللہ تعالی کو پہنچا دیا

حضرت بایزید بسطامیؒ



-------------------------------
3



اگر سالک اپنی ظاہرہ حالت کو درست کرے تو رقتِ قلب خدا کی  طرف سے مل جاتی ہے

حضرت بایزید بسطامیؒ

-------------------------
4



اللہ تعالی فقط میلانِ قلب کو دیکھتا ہے۔ اگر یہ حالت ہو جائے تو وظیفہ اپنے اثر سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔اور اس میں زمانی تقدیم اور تاخیر نہیں ہوتی۔


حضرت بایزید بسطامیؒ

------------------------




Monday, September 5, 2016

09/2016

حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

----------------------------------------
28


خود کو اپنے مرتبہ کے مطابق ہی ظاہر کرنا چاہئے یا جس قدر خود کا ظاہر کرتا ہے وہ مرتبہ حاصل کرنا چاہئے


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

-------------------------------
29



خود کو اپنے مرتبہ کے مطابق ہی ظاہر کرنا چاہئے یا جس قدر خود کا ظاہر کرتا ہے وہ مرتبہ حاصل کرنا چاہئے


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

---------------------------
30


بھوک ایک ایسا ابر ہے جس سے رحمت کی بارش ہوتی ہے


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء


-------------------
31
2

---------------------------
1



خدائی یاد کا مفہوم اپنے نفس کو فراموش  کر دینا ہے


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

--------------
2


دو خصلتیں مخلوق کی تباہی کا باعث بنتی ہیں  اول کسی بھی مخلوق کا احترام نہ کرنا ، دوم  خالق کے احسان کو ٹھکرا دینا۔


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

-------------------------------------
3


میں اس طرح راضی برضا ہوں کہ اگر کسی کو اعلیٰ علیین میں اور مجھے  اسفل السالفین میں ڈال دیا جائے جب بھی میں اپنی موجودہ حالت پر خوش رہوں گا۔


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

---------------------------------
4


جب مخلوق سے کنارہ کش ہو کر اپنے عیوب پر نظر پڑنے لگے  تو اُسی وقت  قربِ  الہٰی حاصل ہوتا ہے


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

--------------------
5


حضرت احمد خضرویہ ؒ نے  حضرت بایزید ؒ سے کہا کہ مجھے ابھی تک مقامِ نہایت تک رسائی حاصل نہیں ہو سکتی۔
حضرت بایزید ؒ نے فرمایا  کہ تم عزت کی انتہا حاصل کرنے کی فکر میں ہو اور وہ باری تعالی کی صفت ہے، جس کو مخلوق حاصل کر ہی نہیں سکتی


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

---------------------------
6


مغرور کو کبھی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

--------------------
7


مخلوق نے مجموعی طور ہر جتنا خدا کو یاد کیا ہے میں نے تنہا یاد کیا ہے


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

-----------------
8


اللہ مخلوق کے بھیدوں سے خوب واقف ہے اور ہر ایک کے بھید کی طرف نظر فرما کر کہتا ہے کہ میں اسکو اپنی محبت سے خالی پاتا ہوں لیکن بایزید کے بھید کو اپنی محبت میں غرق دیکھتا ہوں


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

---------------
9


لوگ مجھے اپنے جیسا خیال کرتے ہیں حالانکہ عالمِ غیب میں میرے اوصاف کا مشاہدہ کر لیں تو مر جائیں


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

----------------------------
10


ولایت کی انتہا نبوت کی ابتدا ہوا کرتی ہے لیکن نبوت کی کوئی انتہا نہیں۔


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

-------------------------
11


مجھے قربِ خداوندی تو حاصل ہوا لیکن اُس کے محبوب کے قرب تک رسائی حاصل نہ ہو سکی۔ کیونکہ یہ امر واقعہ ہے کہ اللہ تعالی تو ہر بندے کے ہمراہ اور قریب ہے اور ہر بندہ اپنے معیار کے مطابق اُسکا مشاہدہ کر سکتا ہے،لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اُسی وقت نصیب ہو سکتی ہے جب لا الہ الا اللہ کی منزل سے گزر جائے۔


حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

-------------------------
12


اے اللہ میں علم و زہد نہیں چاہتا  اپنے رموز مجھ پر آشکار فرما دے

مناجات حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

------------------------------
13


اے اللہ ! تیرے ہی فضل نے مجھے تجھ سے روشناس کیا اور میں تجھ پر ناز کرتا ہوں 


مناجات حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

--------------------------
14


اے اللہ ! قلب کے لئے بہترین شے تیرا لہام ہے اور غیب کی راہوں میں سب سے افضل تیرا نور ہے، اور سب سے عمدہ حالت وہ حالت ہے جس کا انکشاف مخلوق کے لئے  دشوار رہے


مناجات حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

------------------------
15


اے اللہ ! میں اپنی عبادت و ریاضت پر نازاں نہیں ہوں بلکہ یہ بات قابلِ فخر ہے کہ تو نے اپنے احکامات کی بجا آوری کے لئے قوت و طاقت عطا کر کے خلعتِ بزرگی سے سرفراز کیا۔


مناجات حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

---------------------------
16


اے اللہ ! میرا شمار تو اُن آتش پرستوں میں کر لے جو ستر سال آتش پرستی میں مبتلا رہے اور  آخری عمر میں صحرائے گمراہی سے نکل کر وادیِ یدایت میں پہنچے اور  اسلام میں شامل ہو کر اُن میں تیرا نام لینے کا ذوق پیدا ہوگیا۔


مناجات حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

---------------------------
 17


اے اللہ ! نہ تجھے کسی  سبب کی حاجت اور نہ قبولیت کے لئے کسی عبادت کی، اور نہ تیرے یہاں کی رسم ہے کہ کثرتِ گناہ کی بناء پر گنہگاروں  کو کسی طرح معاف ہی نہ کرے گا۔ تجھے کلی اختیار ہے جسے چاہے معاف کر کے اپنے قرب سے نواز دے۔


مناجات حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء
------------------------
18



اے اللہ ! گو میں نے اپنے نزدیک بہت ہی نیک کام انجام دئے لیکن وہ تیری بارگاہ میں قبولیت کے ہر گز قابل نہیں ، لہٰذا اُن کو نظر انداز فرما کر صرف اپنے رحم و کرم سے میری مغفرت فرما دے


مناجات حضرت بایزید بسطامی ؒ
تذکرۃُ اولیاء

-------------------------------------






Monday, August 1, 2016

1 اگست 16

حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃ الاولیاء

-----------------------------------
1


خدا کے بہت سے بندے ایسے بھی ہیں جو  دیدارِ الہٰی کے مقابلے میں جنت کو بھی اچھا نہیں سمجھتے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء

--------------
2


عارف  صادق وہی ہے جو خواہشات کو ترک کر کے خدا کی پسندیدگی کو ملحوظ رکھے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃ الاولیاء

----------------------

3


ایک دانہ معرفت میں جو لذت ہے وہ جنت کی نعمتوں میں کہاں ؟


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


----------------------------
4


خدا کی یاد میں فنا ہوجانا زندہ جاوید ہوجانا ہے



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------
5


 زاہد و صالح کو ایسی ہوا کی طرح تصور کرو جو تمہارے اوپر چل رہی ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


----------------------
6



دنیا اہلِ دنیا کے لیے غرور ہی غرور ، اور آخرت اہل آخرت کے لئے  سرور ہی سرور اور عارفین خداوند کے لئے نور ہی نور ہے



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------
7



عارف کی ریاضت یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کا نگراں رہے اور عارف کی شناخت یہ ہے کہ جو خموشی کے ساتھ  مخلوق سے کنارہ کش رہے۔



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


---------------------------
8


 خدا کا طالب آخرت کی طرف بھی متوجہ نہیں ہوتا اور خدا سے محبت کرنے والا اپنی محبت کی بنا پر خدا  ہی کی طرح یکتا ہوجاتا ہے۔۔


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


-------------------------------
9

﷽ 

محشر میں اہل جنت کے سامنے کچھ صورتیں پیش کی جائیں گی  اور جو کسی صورت کو اپنا لے گا وہ دیدارِ الہٰی سے محروم ہو جائے گا



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------
10



جس وقت تک بندہ خود کو ہیچ تصور نہ کرے  واصل باللہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا کی صفت کا اِسی وقت مظاہرہ ہو سکتا ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


----------------------------
11



محبت کے بغیر معرفت بے معنی ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------------
12




عارف وہ ہے کو ملک و دولت معیوب تصور کرتا ہو


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


-------------------------------
13



خدا دوست لوگوں کی نظر میں جنت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------------
14



خدا نے جن کے قلوب کو بار محبت اُٹھانے کے قابل تصور نہیں کیا اُن کو عبادت کی طرف لگا دیا کیونکہ معرفتِ الہٰی کا بار سوائے عارف کے اور کوئی برداشت نہیں کر سکتا


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------------

15



بندے کو ایسا وقت ضرور نکالنا چاہئے جس میں اپنے مالک کے سوا کسی پر نظر نہ اُٹھے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------

16


اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کو تین چیزیں عطا کرتاہے اول دریا کی طرح سخآوت ، دوم آفتاب کی طرح روشنی ، سوم زمین کی ساجزی۔


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


-------------------------
17



علوم میں ایک ایسا علم بھی ہے جس سے عالم واقف نہیں اور زہد میں ایک ایسا زہد ہے جس کو زاہد بھی نہیں جانتے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء



-----------------------
18



اللہ تعالی جس کو قبولیت عطا فرماتا ہے اُس پر ایک ایسا فرعون مقرر کر دیتا ہے جو ہمہ وقت اذیت پہنچاتا رہے۔۔


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


---------------------------------
19


بندے کو جب تک قرب الہٰی حاصل نہیں ہوتا اُسی وقت تک باتیں بناتا ہے لیکن جب حضوری حاصل ہوتی ہے تو سکتہ طاری ہو جاتا ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------
20


عارف وہ ہے جس کی نظر میں  ہر برائی ،اچھائی میں تبدیل ہو جائے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء

-----------------------

21


خدا شناس جہنم کے لئے عذاب ہے اور خدا شناس کے لئے جہنم عذاب


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء

-------------------

22


انسانی خواہشات چھوڑ دینا در حقیقت واصل الی اللہ ہوجانا ہے

----------------------

حضرت علی  رضی اللہ تعالی عن