Saturday, December 10, 2016

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------------
13



حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے تعظیم اور احترام کے جزبے کے ساتھ فرمایا۔ اللہ تعالی کا کونسا نام اسمِ اعظم نہیں ہے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------------
14


ایک شخص بایزید ؒ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے بایزید مجھکو اللہ تعالی نے ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جس تک دنیا کے کسی آدمی کی رسائی نہیں آپؒ نے پوچھا آخر وہ کیا اور کیسا مقام ہے۔ تو اُس شخص نے کہا عرش سے فرش تک جو کچھ بھی ہئ سب میرے لئے مسخر ہے ۔ اس پر بایزید ؒ نے فرمایا یہ تو سب سے کم تر درجہ ہے۔ جس سے اہلَ معرفت سرفراز ہوتے ہیں

حضرت بایزید بسطامی ؒ

----------------------------------
15



حضرت بایزید ؒ نے خود فرمایا ہے کہ محبت میں سالک کو چاہئے کہ وہ اپنے (عمل و نفاق) کے بہت کچھ کو کم سمجھے اور محبوب کی جانب سے تھوڑی سی عطا کو ذیادہ تصور کرے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-----------------------------
16



حضرت بایزید بسطامی ؒ فرماتے ہیں محبت یہ ہے کہ بندہ اپنی بہت ذیادہ عبادت کو بلکل معمولی سمجھے اور دوست کی تھوڑی سی عطا کو بہت ذیادہ جانے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------------
17



ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص حضرت بایزید ؒ کی ذیارت کو آیا اور جب واپس جانے لگا تو کہنے لگا کہ میں نے آپؒ  کی کوئی کرامت نہیں دیکھی۔حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ تم نے اپنے قیام کے دوران میرا کوئی عمل خلافِ سنت دیکھا ؟ تو اُس شخص نے نفی میں جواب دیا ۔
پھر آپؒ نے فرمایا  اس سے بڑھ کر اور کیا کرامت چاہتے ہو ؟

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-----------------------------
18



حضرت بایزید ؒ فرماتے ہیں کہ ساری عمر میری یہی تمنا رہی کہ ایک نماز تو ایسی ادا کروں کہ جو خداوند تعالی کے شایانِ شان ہو۔لیکن افسوس میں ایسا نہ کر سکا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------------
19



حضرت بایزید بسطامیؒ سے روایت ہے آپؒ نے فرمایا کہ درویش کا بغیر مراقبہ کے چلنا نشانِ غفلت ہے ۔یعنی چلتے وقت بھی قدموں کے ساتھ اللہ ھو کہے، ایک قدم اُٹھائے تو (اللہ) اور دوسرے کو اُٹھائے تو ھو کہے۔آپؒ فرماتے ہیں جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ دو قدموں میں ہی حاصل ہوتا ہے، کیونکہ ایک قدم اپنے حصہ کی تلاش کے لئے رکھا جاتا ہے اور دوسرا اللہ تعالی کے حکم کے مطابق رکھا جاتا ہے

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------------
20



حضرت بایزید بسطامیؒ نے فرمایا اگر میں اعلیٰ مجاہدات کا ذکر کروں تو تمہارے فہم سے بالاتر  ہے لیکن میرا معمولی مجاہدہ  یہ ہے کہ ایک دن میں نے اپنے نفس کو عبادت کے لئے آمادہ کرنا چاہا تو وہ منحرف ہوگیا لیکن میں نے بھی اُسے سزا کےطور پر پورے ایک سال تک پانی سے محروم رکھا اور کہا تم عبادت کے لئے تیار ہوجاو ورنہ اسی طرح پیاس سے تڑپاتا رہوں گا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------
21



منقول ہے کہ حضرت بایزیدؒ  ریاضت میں اس درجہ مستغرق رہتے تھے کہ ایک ارادت مند جو تیس سال سے  آپؒ کا خادم بنا ہوا تھا وہ جب بھی سامنے آتا تو آپؒ پوچھتے کہ تیرا نام کیا ہے ؟

ایک مرتبہ اُس نے عرض کی کہ آپؒ میرے ساتھ مذاق کرتے ہیں ؟ کہ جب بھی میں سامنے آتا ہوں تو آپؒ نام پوچھتے ہیں۔ 
آپؒ نے فرمایا میں مذاق نہیں کرتا بلکہ میرے قلب و روح میں اس طرح اللہ تعالی کا نام جاری و ساری ہے کہ اس کے نام کے سوا مجھے کسی کا نام یاد نہیں رہتا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------------------
22



حضرت بایزید ؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں سردیوں کی رات میں گدڑی اوڑھے ہوئے ایک جنگل میں سویا ہوا تھا۔ کہ مجھے غسل کی حاجت پیش آگئی۔ لیکن شدت سردی کی وجہ سے میرے نفس میں کاہلی پیدا ہوگئی۔مگر میں نے بھی گدڑی اوڑھے ہوئے یک بستہ پانی سے غسل کر کے صبح تک وہی بھیگی ہوئی گدڑی اِس نیت سے اوڑھے رکھی کی کاہلی کے جرم میں نفس کو اور بھی ذیادہ سردی کا سامنا کرنا پڑے۔اور اُس دن سے یہ معمول بنا لیا کہ دن میں ستر مرتبہ غسل کرتا ہوں اور ہر مرتبہ بے ہوش ہوجاتا ہوں۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------------
23



حضرت بایزید ؒ سے حضرت احمدؒ نے سوال کیا کہ میں نے آپؒ کے مکان کے سامنے شیطان کو پھانسی پر لٹکے دیکھا ہے وہ کیا چیز ہے ؟
حضرت بایزیدؒ نے فرمایا میں نے اُس سے وعدہ لیا تھا کہ کبھی بسطام میں داخل نہ ہوگا لیکن وہ وعدہ خلافی کرتے ہوئے ایک شخس کو فریب دینے کے لئے بسطام میں آگیا۔ اور اسی کی سزا میں میں نے اسے پھانسی پر لٹکا دیا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ

-------------------------
24



حضرت بایزید ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شب فلک اول کے ملائکہ جمع ہو کر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپؒ کے ہمراہ عبادت کرنا چاہتے ہیں، میں نے اُن سے کہا کہ میری زبان میں طاقت نہیں جس سے میں ذکرِ الہی کر سکوں ۔ لیکن اس کے باوجود رفتہ رفتہ ساتوں آسمان کے ملائکہ میرے پاس جمع ہوگئے۔اور سب سے وہی خواہش ظاہر کی جو فلک اول کے فرشتوں نے کی تھی۔اور میں نے سب کو پہلے ہی جیسا جواب دیا۔ اور جب پوچھا کہ ذکرِ الہی کی طاقت آپ میں کب تک پیدا ہو گی تو میں نے کہا کہ قیامت میں جب سزا و جزا ختم ہو جائیں گے اور طواف عرش کرتا ہوا اللہ اللہ کہہ رہا ہوں گا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------------------
25




ایک شب حضرت بایزیدؒ کو عبادت میں لذت محسوس نہ ہوئی تو خادم سے فرمایا  دیکھو گھر میں کیا چیز موجود ہے۔ چنانچہ انگور کا ایک خوشہ نکلا تو آپؒ نے فرمایا یہ کسی کو دے دو۔ اس کے بعد آپؒ کے اوپر انوار کی بارش ہونے لگی اور ذکر و شغل میں لذت محسوس ہونے لگی

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------------

26


ایک مرتبہ حضرت بایزید ؒ کہیں تشریف لے جا رہے تھے  کہ ایک ارادت مند آپؒ کے تقشِ پا پر قدم رکھ کر چلتے ہوئے کہنے لگا مرشد کے نقشِ قدم پر چلنا اسکو کہتے ہیں۔ پھر اِسی مرید نے استدعا کی کہ مجھے اپنی پوستین کا ایک ٹکڑا عنایت فرما دیں۔ تاکہ مجھے بھی برکت حاصل ہو سکے۔ آپؒ نے فرمایا اس وقت تک میری کھال بھی سودمند نہیں جب تک مجھ جیسا عمل نہ ہو۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-------------------------
27


حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ مغرور اِس کو کہتے ہیں جو دوسروں کو کم تر تصورکرے اور مغرور کو کبھی معرفت حاصل نہیں ہوتی

حضرت بایزید بسطامی ؒ
--------------------------

28


حضرت بایزید ؒ فرماتے  ہیں کہ میں نے خدا سے سوائے خدا کہ کچھ طلب نہیں کیا اور  فرمایا کہ مخلوق نے مجموعی طور پر جتنا خدا کو یاد کیا ہے میں نے تنہا یاد کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا نے مجھکو  یاد فرمایا اور اپنی معرفت سے مجھکو  حیات نو عطا کردی۔۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-------------------------------------------------

29


حضرت بایزیدؒ نے فرمایا کہ  جب مجھے آسمان کی سیر کروائی گئی اور عالمِ ملکوت  یرے مشاہدے میں آگیا تو مجھے وہاں سے رضا و محبت حاصل ہوگئی،

حضرت بایزید بسطامی ؒ

---------------------------

30



حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ مجھے یہ مرتبہ پہلے حاصل ہوا  کہ جس عضو کو رجوع الا اللہ پایا تو اس سے کنارہ کش ہر کر دوسرے عضو سے کام نکالا،


حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------------
31



فرمایا کہ خدا شناسی کے بعد  میں نے خدا کو اپنے کئے کافی سمجھ لیا۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
------------
1


حضرت بایزید ؒ نے فرمایا کہ کچھ عرصہ سے نماز میں مجھے خیال آتا ہے کہ میرا قلب مشرک ہے اور اس کو زنار کی ضرورت ہے۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
---------------------
2



عورتیں مجھ سے اس لئے افضل ہیں کہ وہ ماہواری کے بعد غسل کر کے پاک و صاف ہو جاتی ہیں لیکن میری تمام عمر غسل کرتے بہت گئی مگر پاکی حاصل نہ ہو سکی۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ
-----------------------------














No comments:

Post a Comment