Monday, August 1, 2016

1 اگست 16

حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃ الاولیاء

-----------------------------------
1


خدا کے بہت سے بندے ایسے بھی ہیں جو  دیدارِ الہٰی کے مقابلے میں جنت کو بھی اچھا نہیں سمجھتے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء

--------------
2


عارف  صادق وہی ہے جو خواہشات کو ترک کر کے خدا کی پسندیدگی کو ملحوظ رکھے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃ الاولیاء

----------------------

3


ایک دانہ معرفت میں جو لذت ہے وہ جنت کی نعمتوں میں کہاں ؟


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


----------------------------
4


خدا کی یاد میں فنا ہوجانا زندہ جاوید ہوجانا ہے



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------
5


 زاہد و صالح کو ایسی ہوا کی طرح تصور کرو جو تمہارے اوپر چل رہی ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


----------------------
6



دنیا اہلِ دنیا کے لیے غرور ہی غرور ، اور آخرت اہل آخرت کے لئے  سرور ہی سرور اور عارفین خداوند کے لئے نور ہی نور ہے



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------
7



عارف کی ریاضت یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کا نگراں رہے اور عارف کی شناخت یہ ہے کہ جو خموشی کے ساتھ  مخلوق سے کنارہ کش رہے۔



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


---------------------------
8


 خدا کا طالب آخرت کی طرف بھی متوجہ نہیں ہوتا اور خدا سے محبت کرنے والا اپنی محبت کی بنا پر خدا  ہی کی طرح یکتا ہوجاتا ہے۔۔


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


-------------------------------
9

﷽ 

محشر میں اہل جنت کے سامنے کچھ صورتیں پیش کی جائیں گی  اور جو کسی صورت کو اپنا لے گا وہ دیدارِ الہٰی سے محروم ہو جائے گا



حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------
10



جس وقت تک بندہ خود کو ہیچ تصور نہ کرے  واصل باللہ نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا کی صفت کا اِسی وقت مظاہرہ ہو سکتا ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


----------------------------
11



محبت کے بغیر معرفت بے معنی ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------------
12




عارف وہ ہے کو ملک و دولت معیوب تصور کرتا ہو


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


-------------------------------
13



خدا دوست لوگوں کی نظر میں جنت بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


--------------------------
14



خدا نے جن کے قلوب کو بار محبت اُٹھانے کے قابل تصور نہیں کیا اُن کو عبادت کی طرف لگا دیا کیونکہ معرفتِ الہٰی کا بار سوائے عارف کے اور کوئی برداشت نہیں کر سکتا


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------------

15



بندے کو ایسا وقت ضرور نکالنا چاہئے جس میں اپنے مالک کے سوا کسی پر نظر نہ اُٹھے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------

16


اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کو تین چیزیں عطا کرتاہے اول دریا کی طرح سخآوت ، دوم آفتاب کی طرح روشنی ، سوم زمین کی ساجزی۔


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


-------------------------
17



علوم میں ایک ایسا علم بھی ہے جس سے عالم واقف نہیں اور زہد میں ایک ایسا زہد ہے جس کو زاہد بھی نہیں جانتے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء



-----------------------
18



اللہ تعالی جس کو قبولیت عطا فرماتا ہے اُس پر ایک ایسا فرعون مقرر کر دیتا ہے جو ہمہ وقت اذیت پہنچاتا رہے۔۔


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


---------------------------------
19


بندے کو جب تک قرب الہٰی حاصل نہیں ہوتا اُسی وقت تک باتیں بناتا ہے لیکن جب حضوری حاصل ہوتی ہے تو سکتہ طاری ہو جاتا ہے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء


------------------------
20


عارف وہ ہے جس کی نظر میں  ہر برائی ،اچھائی میں تبدیل ہو جائے


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء

-----------------------

21


خدا شناس جہنم کے لئے عذاب ہے اور خدا شناس کے لئے جہنم عذاب


حضرت بایزید بسطامیؒ
تذکرۃُ الاولیاء

-------------------

22


انسانی خواہشات چھوڑ دینا در حقیقت واصل الی اللہ ہوجانا ہے

----------------------

حضرت علی  رضی اللہ تعالی عن











No comments:

Post a Comment