Saturday, July 9, 2016

حضرت بایزید بسطامیؒ

9-7-16

----------------------


پوری دنیا کے بزرگ معمولی سی چیزوں پر ہی خدا سے راضی ہو گئے لیکن میں نے راضی ہونے کے بجائے خود کو اُس پر قربان کردیا  ہے اور مجھے وہ اوصاف حاصل ہوئے کہ اگر میں ان میں سے ایک دانہ کے برابر بھی سامنے لے آوں تو  نظامِ عالم برہم ہو جائے

-------------------------


خدا نے مجھے اپنی خوشی سے اپنے دیدار سے مشرف فرمایا  اس لئے کہ بندہ ہونے کی حیثیت سے کس طرح اس کے دیدار کی تمنا کر سکتا ہوں

-------------------------


﷽ 


چالیس سال میں نے مخلوق کو نصیحت کرنے میں گزارے  لیکن سب بے سود ثابت ہوا اور جب رضائے خداوندی ہوئی تو میری نصیحت کے بغیر ہی لوگ سیدھے رستے پر آگئے

---------------------------------


تیس سال تک اللہ تعالی میرا آئینہ بنا رہا لیکن اب میں کود آئینہ بن گیا ہوں اس لئے کہ میں نے اُس کی یاد میں خود کو بھی اس طرح فراموش کردیا ہے  
کہ اب اللہ تعالی میری زبان بن چکا ہے یعنی میری زبان سے نکلنے والے کلمات گویا زبانِ خداوندی سے عطا ہوتے ہیں اور میرا وجود درمیان سے ختم ہوجاتا ہے

------------------------------


مجھے خدائی بارگاہ سے حیرت و ہیبت کے علاوہ کچھ نہ مل سکا

-----------------------------


ایک ر ات صبح تک اپنے قلب کی جستجو کرتا رہا لیکن نہیں ملا اورصبح 
کو یہ ندائے غیبی آئی کہ تجھے دل سے کیا غرض تو ہمارے سوا کسی کو تلاش نہ کر

---------------------------


اللہ نے مجھے وہ مقام عطا کیا ہے کہ کل کائینات کو اپنی اُنگلیوں کے درمیان دیکھتا ہوں

-------------------------------


عارف کا ادنیٰ مقام یہ ہے کہ صفات خداوندی کا مظہر ہو

---------------------------------


اگر اللہ تعالی مجھے جہنم میں جھونک دے اور میں صبر کر لوں تب بھی اس کی محبت کا حق ادا نہیں ہوتا اور  اللہ تعالی مجھکو پوری کائینات بخش دے تب بھی اُس کی رحمت کے مقابلے میں قلیل ہے۔ 

----------------------------------


﷽ 

عارف کامل وہی ہے جو آتشِ محبت میں جلتا رہے

--------------------------