Saturday, May 7, 2016


 اقوال حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ 


راحتوں کو چھوڑ کر مشقتیں برداشت کرنے کا نام ہی تصوف ہے


------------------------------

راہِ طریقت میں سب سے بڑی دولت  وہ ہے جو مادر زاد ہو۔  اس کے بعد چشمِ بینا اور اس کے بعد گوش ہوش، اگر یہ تینوں چیزیں میسر نہ ہوں تو پھر مرگ نا گہاں کی بہتر ہے۔
---------------------------------


میں نے تیس (30) سال مجاہدہ کیا لیکن میں نے اپنے اوپر علم اور اس کی متابعت سے بڑھ کر کوئی چیز  سخت اور دشوار نہیں دیکھی

----------------------------------------------------------------------


خلافِ سنت فعل کا مرتکب ولی نہیں ہو سکتا

-----------------------------------------------------------

علم بھی نام نہاد علماء سے سیکھنا مناسب نہیں کیونکہ وہ روحانی قوتوں سے محروم ہوتے ہیں، علم قرآن اور خبر (حدیث) ایسے شخص سے سیکھو اور سنو جو علم سے معلوم تک (یعنی اللہ تک ) رسائی حاصل کر چکا ہو اور خبر سے مخبر ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو پہچانتا ہو


------------------------------------------------

سب سے اہم مجاہدہ اپنے علم پر عمل کرنا ہے

-----------------------------------------


 میں نے معرفت بھوکے پیٹ اور ننگے بدن کے ساتھ حاصل کی


------------------------------------------------------


اگر فرعون شکم سیر نہ ہوتا اور بھوکا رہتا تو کبھی انا ربُکُم الَاعلیٰ نہ کہتا۔ 

---------------------------------------------

یاد رکھو کہ متکبر شخص کو  معرفت کی ہوا تک بھی نہیں لگتی

---------------------------------------------


مرد وہ نہیں جو کسی چیز کے پیچھے چلے بلکہ مرد وہ ہے کہ جو جہاں کہیں بھی ہو  چیزیں اُس کے گرد دوڑیں اور جس چیز سے خطاب کرے اُسی سے جواب سنے

----------------------------

کوئی گناہ تم کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا ایک مسلم بھائی کو بے عزت کرنے سے پہنچتا ہے


----------------------------------


جو خدا کتوں اور بلیوں کو رزق دیا ہے کیا وہ بایزید کو رزق نہیں دے سکتا 


-------------------------------------------

اگر خدا وند تعالی تمام مخلوق کے عوض مجھے دوزخ میں ڈال دے تو کوئی حرفِ شکایت زبان پر نہ لاوں گا



------------------------------------------------

حضرت بایزید کو لوگوں سے سات مرتبہ شہر سے نکالا کیونکہ آپ سفر سے بسطام واپس آئے اور ایسے علوم میں گفتگو کی جس سے شہر کے لوگ نا آشنا تھے

---------------------------------


ایک مرتبہ حضرت با یزید ؒ کو شہر بسطام سے نکال دیا گیا تو آپ نے وجہ دریافت کی۔ لوگوں نے جواب دیا کہ تم اچھے آدمی نہیں ہو اس لئے تم کو شہر سے نکالا۔ آپؒ نے فرمایا کہ کتنا اچھا ہے وہ شہر جس کا  برا آدمی میں ہوں،

--------------------------------


میں نے تمام ہاتھوں سے اللہ تعالی کو ڈھونڈا مگر جب تک مصیبت کے ہاتھ سے نا ڈھونڈا نہ ملا۔


------------------------------------


جب تک دل میں تکبر ہے اس وقت تک کوئی شخص قرب الہٰی کی بو بھی نہیں پا سکتا، اور کمالات ِ تصوف تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

----------------------------

جو شخص اتباع سنت کے بغیر خود کو  صاحب طریقت کہتا ہو وہ کاذب ہے کیونکہ  اتباع شریعت کے بغیر طریقت کا حصول ممکن نہیں

--------------------------------------

مجھ سے بذریعہ الہام اللہ تعالی نے فرمایا کہ عبادت و خدمت تو بہت ہے لیکن اگر تو ہماری ملاقات کا متمنی ہے تو ہماری بارگاہ میں وہ شے بھیج جو ہمارے خزانے میں نہ ہو۔ آپ نے سوال کیا وہ کونسی شے ہےِ؟
اللہ تعالی نے فرمایا  کہ عجز و انکساری اور ذلت و غم حاصل کر کیونکہ ہمارا خزانہ اِن چیزوں سے خالی ہے اور ان کو حاصل کرنے والے ہمارا قرب حاصل کر لیتے ہیں

------------------------------


دو عالم کی دولت سے یہ بات بہتر ہے کہ انسان خدا کے فضل سے ہٹ کر اپنی ذاتی سعی سے کچھ بھی حاصل نہ کرے

------------------------------------

ایک مرتبہ ایک مرید نے عرض کی  کہ مجھے اس پر حیرت ہوتی ہے کہ خدا کو جانتے ہوئے بھی کوئی شخص عبادت نہیں کرتا ۔ حضرت بایزید ؒ نے فرمایا مجھے اس بندے پر حیرت ہوتی ہے جو خدا کو پہچاننے کے بعد عبادت کرتا ہے۔ یعنی یہ حیرت ہے کہ خدا کو پہچان کر ہوش میں کیسے رہتا ہے

----------------------------------------
  



آپ نے فرمایا جس کام کو میں سب سے موخر سمجھتا تھا  وہ سب سے مقدم نکلا اور وہ والدہ کی رضا تھی

-----------------------------------------

page 157